:
Breaking News

حکومت کے خلاف نعرے لگانے پر شہر بدر نہیں کیا جا سکتا، بمبئی ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ

top-news
https://maannews.acnoo.com/public/frontend/img/header-adds/adds.jpg

بمبئی ہائی کورٹ نے کہا ہے کہ حکومت کی پالیسیوں کی مخالفت کرنا یا حکومت مخالف نعرے لگانا کسی شہری کو اس کے شہر سے بے دخل کرنے کی بنیاد نہیں بن سکتا۔ عدالت نے اسے آئین میں دیے گئے بنیادی حقوق سے جوڑا ہے۔

جمہوریت میں اختلافِ رائے اور پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے۔ اسی اصول کو مزید مضبوط کرتے ہوئے بمبئی ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلہ سنایا ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ صرف حکومت کی پالیسیوں کی مخالفت کرنے یا حکومت کے خلاف نعرے لگانے کی بنیاد پر کسی شہری کو اس کے شہر یا علاقے سے بے دخل (Extern) نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت کے مطابق ایسی کارروائی آئینِ ہند میں دیے گئے بنیادی حقوق کے خلاف ہے۔

یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب سوشلسٹ ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (SDPI) کے مہاراشٹر جنرل سیکریٹری سعید احمد عبدالواحد چودھری کی درخواست پر سماعت ہو رہی تھی۔ ممبئی پولیس نے انہیں ایک سال کے لیے ممبئی اور اس کے مضافاتی علاقوں سے باہر رہنے کا حکم دیا تھا، جسے بمبئی ہائی کورٹ نے منسوخ کر دیا۔

سماعت کے دوران جسٹس مادھو جامدار نے کہا کہ ہر شہری کو حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کرنے اور اپنی رائے کا اظہار کرنے کا آئینی حق حاصل ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ اگر کوئی شخص "حکومت مردہ باد" جیسے نعرے لگاتا ہے تو کیا صرف اسی بنیاد پر اسے شہر بدر کیا جا سکتا ہے؟ عدالت نے کہا کہ پولیس کا فرض قانون و امن برقرار رکھنا ہے، نہ کہ جمہوری احتجاج کو دبانا۔

عدالت نے پولیس کے کردار پر بھی سخت تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ پولیس کسی وزیر اعلیٰ یا وزیر اعظم کی نہیں بلکہ عوام کی خدمت گزار ہے۔ اگر ہر احتجاج یا اختلافِ رائے پر مقدمات درج کیے جائیں گے تو جمہوری نظام کمزور ہوگا اور شہری آزادی متاثر ہوگی۔

درخواست گزار کے خلاف 2019 سے 2024 کے درمیان متعدد مقدمات درج کیے گئے تھے۔ یہ مقدمات شہریت ترمیمی قانون (CAA)، قومی رجسٹر برائے شہریت (NRC)، بابری مسجد، گیان واپی مسجد تنازع، وقف بورڈ میں مبینہ بدعنوانی اور پٹرول و ڈیزل کی بڑھتی قیمتوں کے خلاف احتجاج سے متعلق تھے۔ انہی مقدمات کی بنیاد پر مہاراشٹر پولیس ایکٹ کے تحت انہیں بارہ ماہ کے لیے ممبئی سے باہر رکھنے کا حکم جاری کیا گیا تھا۔

ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ آئینِ ہند کا آرٹیکل 19 ہر شہری کو اظہارِ رائے کی آزادی اور پرامن احتجاج کا حق دیتا ہے، جبکہ آرٹیکل 21 باوقار زندگی گزارنے کے حق کی ضمانت دیتا ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ صرف حکومت پر تنقید یا پرامن احتجاج کسی شخص کو اس کے رہائشی علاقے سے بے دخل کرنے کی قانونی بنیاد نہیں بن سکتا۔

البتہ عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ احتجاج ہمیشہ قانون کے دائرے میں اور پرامن ہونا چاہیے۔ اگر کوئی شخص تشدد، عوامی املاک کو نقصان پہنچانے یا کسی دوسرے قابلِ سزا جرم میں ملوث پایا جاتا ہے تو اس کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جا سکتی ہے۔

قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ جمہوری حقوق، اظہارِ رائے کی آزادی اور شہری آزادیوں کے تحفظ کے حوالے سے ایک اہم نظیر ثابت ہو سکتا ہے۔ اس فیصلے سے یہ پیغام بھی گیا ہے کہ حکومت کی پالیسیوں سے اختلاف کرنا جمہوریت کا حصہ ہے اور صرف اس بنیاد پر کسی شہری کے بنیادی حقوق محدود نہیں کیے جا سکتے۔

یہ بھی پڑھیں:

• مودی کابینہ میں ممکنہ رد و بدل کی قیاس آرائیاں

• خان سر کی پیشگی ضمانت پر سماعت ملتوی

• بہار-نیپال سرحد پر سیکیورٹی مزید سخت

ادارتی رائے

جمہوریت کی اصل طاقت اختلافِ رائے میں پوشیدہ ہوتی ہے۔ جب شہریوں کو اپنی بات کہنے، حکومت پر تنقید کرنے اور پرامن احتجاج کا حق حاصل ہوتا ہے تو جمہوری ادارے مزید مضبوط ہوتے ہیں۔ بمبئی ہائی کورٹ کا یہ فیصلہ اسی آئینی سوچ کو تقویت دیتا ہے۔ عدالت نے واضح کیا ہے کہ ریاستی اداروں کو عوام کے بنیادی حقوق کا احترام کرنا چاہیے اور قانون کا استعمال صرف امن و امان برقرار رکھنے کے لیے ہونا چاہیے، نہ کہ اختلافِ رائے کو دبانے کے لیے۔

https://maannews.acnoo.com/public/frontend/img/header-adds/adds.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *